حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، جَمِيعًا عَنْ جَرِيرٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، كُلُّهُمْ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيِّ
قَالَ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ قُلْ لِي فِي الإِسْلَامِ قَوْلاً لَا أَسْأَلُ عَنْهُ أَحَدًا بَعْدَكَ (وَفِي حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ غَيْرَكَ) قَالَ: «قُلْ آمَنْتُ بِاللَّهِ فَاسْتَقِمْ»
He said: I asked the Messenger of Allah (sallallahu alayhi wa sallam) to tell me about Islam a thing which might dispense with the necessity of my asking anybody after you. In the hadith of Abu Usamah the (words) are: other than you. He (the Prophet (sallallahu alayhi wa sallam)) remarked: Say I affirm my faith in Allah and then remain steadfast to it.
عبد اللہ بن مبارک نے کہا : میں نے سفیان ثوری سے عرض کی : بلاشبہ عباد بن کثیر ایسا ہے جس کا حال آپ کو معلوم ہے ۔ جب وہ حدیث بیان کرتا ہے تو بڑی بات کرتا ہے ، کیا آپ کی رائے ہے کہ میں لوگوں سے کہہ دیا کروں : اس سے ( حدیث ) نہ لو؟ سفیان کہنےلگے : کیوں نہیں!
عبد اللہ نے کہا : پھر یہ ( میرا معمول ) ہو گیا کہ جب میں کسی ( علمی ) مجلس میں ہوتا جہاں عباد کا ذکر ہوتا تو میں دین کے حوالے سے اس کی تعریف کرتا اور ( ساتھ یہ بھی ) کہتا : اس سے ( حدیث ) نہ لو ۔
ہم سے محمد نے بیان کیا ، کہا : ہم سے عبد اللہ بن عثمان نے بیان کیا ، کہا : میرے والد نے کہا : عبد اللہ بن مبارک نے کہا : میں شعبہ تک پہنچا تو انہوں نے ( بھی ) کہا : یہ عباد بن کثیر ہے تم لوگ اس سے ( حدیث بیان کرنے میں ) احتیاط کرو
Yine Muhammed (İbn Kuhzâz) şunları söyledi: Bize Abdullah b. Osman rivâyet etti. ki: Babam şunu söyledi: b. el-Mubârek dedi ki: «Şu'be'ye vardım da (bana): Şu Abbâd b. Kesir var ya, ondan korunuverin! dedi.»