حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ رَدِيفُهُ عَلَى الرَّحْلِ قَالَ: «يَا مُعَاذُ». قَالَ لَبَّيْكَ رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ.
قَالَ: «يَا مُعَاذُ». قَالَ لَبَّيْكَ رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ. قَالَ: «يَا مُعَاذُ». قَالَ لَبَّيْكَ رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ. قَالَ: «مَا مِنْ عَبْدٍ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ إِلاَّ حَرَّمَهُ اللَّهُ عَلَى النَّارِ».
قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلَا أُخْبِرُ بِهَا النَّاسَ فَيَسْتَبْشِرُوا قَالَ: «إِذًا يَتَّكِلُوا «فَأَخْبَرَ بِهَا مُعَاذٌ عِنْدَ مَوْتِهِ تَأَثُّمًا»
The Prophet of Allah (sallallahu alayhi wa sallam) addressed Muadh ibn Jabal as he was riding behind him to which he replied: At thy beck and call, and at thy pleasure, Messenger of Allah.
He again called out: Muadh, to which he (again) replied: At thy beck and call, and at thy pleasure. He (the Prophet (sallallahu alayhi wa sallam)) addressed him (again): Muadh, to which he replied: At thy beck and call, and at thy pleasure, Messenger of Allah. Upon this he (the Prophet (sallallahu alayhi wa sallam)) observed: If anyone testifies (sincerely from his heart) that there is no god but Allah, and that Muhammad is His bondsman and His messenger, Allah immuned him from Hell.
He (Muadh) said: Messenger of Allah, should I not then inform people of it, so that they may be of good cheer? He replied: Then they would trust in it alone. Muadh told about it at the time of his death, to avoid sinning.
محمد بن عبد اللہ بن قہزاد نے ( جو مرو کے باشندوں میں سے ہیں ) کہا : میں نے عبدان بن عثمان سے سنا ، کہہ رہے تھے : میں نے عبد اللہ بن مبارک رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا : اسناد ( سلسلہ سند سے حدیث روایت کرنا ) دین میں سے ہے ۔ اگر اسناد نہ ہوتا تو جو کوئی جو کچھ چاہتا ، کہہ دیتا ۔
( امام مسلم رضی اللہ عنہ نے ) کہا : اور محمد بن عبد اللہ نے کہا : مجھے عباس بن ابی رزمہ نے حدیث سنائی ، کہا : میں نے عبد اللہ ( بن مبارک ) کو یہ کہتے ہوئے سنا : ہمارے اور لوگوں کے درمیان ( فیصلہ کن چیز ، بیان کی جانے والی خبروں کے ) پاؤں ، یعنی سندیں ہیں ( جن پر روایات اس طرح کھڑی ہوتی ہیں جس طرح جاندار اپنے پاؤں پر کھڑے ہوتے ہیں ۔)