وَحَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأُمَوِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا أَبُو بُرْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى
قَالَ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَىُّ الإِسْلَامِ أَفْضَلُ قَالَ: «مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ»
وَحَدَّثَنِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ
بِهَذَا الإِسْنَادِ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَىُّ الْمُسْلِمِينَ أَفْضَلُ فَذَكَرَ مِثْلَهُ
I asked the Messenger of Allah (sallallahu alayhi wa sallam) which (attribute) of Islam is more excellent. Upon this he remarked: One in which the Muslims are safe, protected from the tongue and hand of (other Muslims).
Ibrahim ibn Said al-Jauhari has narrated this hadith with the same words in addition to these. The Messenger of Allah (sallallahu alayhi wa sallam) was asked as to who amongst the Muslims is better, and the rest of the hadith was narrated like this.
مجھے محمد بن عبد اللہ قہزاذ نے حدیث سنائی ، کہا : میں نے عبد اللہ بن عثمان بن جبلہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : میں نے عبد اللہ بن مبارک سے کہا : یہ کون ہے جس سے آپ نے عبد اللہ بن عمرو کی حدیث : ’’ عید الفطر کا دن انعامات کا دن ہے ۔
‘ ‘ روایت کی؟ کہا : سلیمان بن حجاج ، ان میں سے جو ( احادیث ) تم نے اپنے پاس ( لکھ ) رکھی ہیں ( یا میں نے تمہیں اس کی جو حدیثیں دی ہیں ) ان میں ( اچھی طرح ) نظر کرنا ( غور کر لینا ۔ ) ابن قہزاذ نے کہا : میں نے وہب بن زمعہ سے سنا ، وہ سفیان بن عبد الملک سے روایت کر رہے تھے ، کہا : عبد اللہ ، یعنی ابن مبارک نے کہا : میں نے ایک درہم کے برابر خون والی حدیث کے راوی روح بن غطیف کو دیکھا ہے ۔
میں اس کے ساتھ ایک مجلس میں بیٹھا تو میں اپنے ساتھیوں سے شرم محسوس کر رہا تھا کہ وہ مجھے اس سے حدیث بیان کرنے کے ناپسندیدہ ہونے کے باوجود اس کے ساتھ بیٹھا دیکھیں اس کی حدیث ناپسندیدگی کی وجہ سے اور اس کی روایت میں نہ مقبولی کی وجہ سے
İbn Kuhzaz dedi ki: Vehb b. Zem'a'yı da Süfyan b. Abdülmelik'ten naklen şunları söylerken işittim: ki: «Abdullah yani ibnü'l -Mübarek: Ben (dirhem mikdârı kan) hadîsinin râvîsi Ravh b. Gutayf'ı gördüm de bir yerde yanına oturdum. Ama arkadaşlarım onun hadîsini beğenmedikleri için, beni onunla beraber otururken görürler diye onlardan utanmaya başladım.»